داستان غرناطہ
تحریر: بشیر قمر
غرناطہ کی کہانی مسلمانوں کیلئے بڑی دردناک اور سبق آموز ہے۔ مسلمانوں نے آٹھویں صدی میں یہ چرچ ایک مسجد میں بدلا اور اسلامی دور کا آغاز کیا۔ مسلمان یہاں بھاری تعداد میں پہنچے اور قرطبہ اسلامی دنیا کا عظیم مرکز بن گیا۔۔دمشق سے عبد الرحمن نے اپنی حکومت بنانے کے بعد انقلابی کام سر انجام دئے۔ مسجد قرطبہ محض ایک مسجد نہیں تھی بلکہ علم، فن تعمیر اور روحانیت کی علامت تھی۔ اس وقت یہ شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کا ایک مثالی شہر اور اشتراک کی بہترین مثال تھی۔ مسلمانوں کی حکومت اسپین میں 800 سال تک قائم رہی، پھر 2 جنوری 1492 کو اسپین ایک بار پھر فتح ہوا۔ اس بار King Ferdinand دوئم اور ملکہ Isabil نے نے اس شہر پر اپنا راج قائم کیا۔ مسلمانوں کے آخری حکمران عبد الرحمن ہفتم نے شہر کی چابیاں نئے حکمران کے حوالے کیں۔ آج اسپین میں عیسائیت قائم ہے مسلمانوں اور یہودیوں پر پابندیاں لگ چکی ہیں ۔ موجودہ کنگ فلپ اور ملکہ بہت مقبول ہیں مسلمان بہت کم ہیں اور اندازے کے مطابق پورے اسپین میں پاکستانی کمیونیٹی 50 ہزار سے 70 ہزار کے قریب ہیں۔ کنگ فلپ اور اسپین نے 2026 میں تقریباً 70 ہزار کے قریب غیر ملکیوں کو بسانے کا پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اگر آپ یہاں 6 مہینے سے رہ رہے ہیں تو اس اسکیم کیلئے کوالیفائی کرتے ہیں۔




