قصر الحمرا

تحریر: بشیر قمر
قصر الحمرا کا نام تو سب نے سنا ہے لیکن اس کی تاریخ سے کم ہی لوگ واقف ہونگے۔ یہ اسپین کے تیرہویں بڑے شہر غرناطہ میں ایک اونچی پہاڑی پر 88 مربع کلومیٹر کے حصے میں واقع ہے۔ الحمرا کے محلات خلافت امویہ کے ولید بن عبد المالک کے دور خلافت میں عبد الرحمن الداخل کو یہاں کا گورنر بنایا۔ الحمرا ایگ رومانوی نام ہے، اس سے تصور وابستہ ہے کہ یہاں کی مٹی کی تہذیب ماضی کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ مسلمانوں نے اپنے 800 سالہ دور حکومت میں 1213ء میں محمد ثانی نے قصر الحمرا کی بنیاد رکھی اور یوسف اول نے 1345ء میں مکمل کیا۔ 132 سال میں مکمل ہونے والا یہ محل اور قلعہ ایک مکمل پناہگاہ تھے جہاں حکمران مکمل چین اور سکون کے ساتھ نظام حکومت سنبھال سکتے تھے۔ قصر الحمرا اتنا وسیع و عریض ہے کے ایک آدمی پورا محل دیکھ ہی نہیں سکتا , ایک تو پہاڑی پر واقع ہے دوسرا ہم شہری لوگوں کو اونچی نیچی اور اڑھی ترچھی جگہوں پر چلنے کی عادت نہیں ہے تیسرا 88 مربع کلومیٹر کا فاصلہ کم نہیں ہوتا۔۔اسکو قصر الحمرا اس لئے بھی کہتے ہیں کہ یہ لال اینٹوں سے بنا ہوا ہے۔ قصر الحمرا کا پرانا باغ ابھی بھی اصلی حالت میں باقی ہے اس کے گرد پانی کا نالہ بہتا ہے اور اس کے ساتھ چھوٹے بڑے بےشمار درخت ہیں۔ اس سے ملحقہ کئی مورچے اور باغات ہیں۔ دفاعی اعتبار سے یہ قلعہ اور محل ناقابل تسخیر ہے۔غرناطہ کے عرب حکمران یکے بعد دیگرے فصیل کے اندر عمارتیں، باغات ، حمام اور عیش وعشرت کا سامان مکمل کرتے رہے تا کہ انکی زندگی سہل ہوتی رہے حتا کہ انقلاب دروازے پر آن پہنچا ۔۔ انقلاب زمانہ نے اس محل کو ایسا اجاڑا کہ صرف الحمرا باقی رہ گیا باقی سب کچھ اجڑ گیا۔ میں یہ سب کچھ دیکھ کر اور سوچ کر اداس ہو گیا ہوں کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہو گئی ہے کہ جہاں انکی 800 سال حکومت رہی ہے اب وہاں ان کا کوئی والی وارث بھی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *