غرناطہ شہر

تحریر: بشیر قمر
خوب صورت اور زرخیز زمین، ہنستے مسکراتے اور زہین لوگ، تاریخ کے دیوانے اور نرم مزاج لوگوں کا مسکن یہ شہر جنت سے کم نہیں ہے جبکہ مسلمانوں کیلئے ایک بری یاد اور تلخ باب ہے۔ غرناطہ کا حسن، اس کی تاریخ ، اسکی شان صرف اس طرح بیان ہو سکتی ہے کہ” غرناطہ میرے دل میں نقش ہو چکا ہے جیسے کوئی خواب آنکھوں میں ٹھہر جائے”۔
اس شہر کی گلیاں، بازار، یادگاریں، باغات، چھوٹے بڑے گھر اور عالیشان محلات مجھ کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں ان کے نظاروں میں کھو گیا ہوں ۔ یہ شہر اتنا حسین ہے کہ اگر کوئی اسے دیکھ نہ سکے تو گویا, روشنی اس سے چھین لی گئی ہو۔میں تو کہتا ہوں کہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس شہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔۔
عام سڑک اور شاہراہوں کی بیچوں بیچ اور کناروں پر مالٹے کے درخت لگے ہوئے ہیں اور ان پر لگے مالٹے دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ اصلی ہیں اور سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ راہ گیر جن کی اکثریت سیاحوں کی ہوتی ہے وہ بھی ان کو نہیں توڑتے، غالباََ یہ پودے لگانا اور اس کام کی دیکھ بھال بلدیہ کی زمہ داری ہے۔ اسکے علاؤہ لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر اور اندر بڑی تعداد میں لوکاٹ, زیتون اور لیموں بھی لگا رکھے ہیں جو نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت لگتے ہیں بلکہ استعمال میں بھی آتے ہیں۔ یہاں ٹریفک کا نظام دنیا بھر سے بہتر ہے کیا مجال کہ کوئی بس ایک منٹ بھی لیٹ ہو جائے ، ہر اسٹاپ پر ڈیجیٹل گھڑی لگی لگی ہوتی ہے کہ فلاں بس اتنے منٹ میں ا رہی ہے۔ تقریباً ہر دس پندرہ منٹ میں بس , اسٹاپ پر پہنچتی ہے اور چند سیکنڈ میں لوگ سوار ہو جاتے ہیں۔ ایک بات اور جو میں نے دیکھی لوگ صرف زیبرا کراسنگ سے ہی سڑک پار کرتے ہیں جسکے لئے فٹ پاتھ پر سگنل لگے ہوئے ہیں۔ کوئی آدمی سگریٹ یا کوئی شے ادھر ادھر نہیں پھینکتا ، بلکہ اس کیلئے کوڑھے دان جا بجا رکھے ہوئے ہیں ۔ تسنیم بات بات پر پاکستان کا زکر کرتی ہے کہ یہ سسٹم پاکستان میں ہونا چاہیے، یہ بھی ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ اور میں دل ہی دل میں مسکرا دیتا ہوں ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *